جس طرح ایک ملک کا سالانہ بجٹ پیش کیا جاتا ہے اسی طرح شب برات کو فرشتے ہر انسان کا نصیب لکھتے ہیں جیسے موت کب آئے گی , رزق کتنا ملے گا وغیرہ وغیرہ شب برات کی ایک رات کی عبادت کئی مہینوں سے بہتر ہے شب برات پندرہ شعبان کو منائی جاتی ہے مسلمان ساری رات عبادت کرتے ہیں اور روزہ رکھ کر سو جاتے ہیں وہ مسلمان بدنصیب کہلاتا ہے جو اس رات اپنی بخشش نہ کروا سکے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتی ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم شعبان میں کثرت سے روزے رکھا کرتے تھے اور جب میں ان سے وجہ پوچھی تو فرمایا عائشہ جب میں اللہ کے حضور جاؤں تو روزے کی حالت میں ہوں شعبان کے مہینے میں آپ صل وسلم عبادات کے سلسلے کو وسعت دے دیا کرتے تھے
حضرت عائشہ فرماتی ہیں ایک دفعہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے پوچھا عائشہ تمہیں پتا ہے شعبان کی پندرھویں شب کو کیا ہوتا ہے میں نے عرض کیا نہیں آپ بتا دیجئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس رات آئندہ سال کے سلسلے میں اولاد آدم کے رزق حیات و موت کے بارے میں لکھا جاتا ہے ایک اور حدیث کے مطابق دو آدمیوں کی بخشش نہیں ہوتی ایک مشرک دوسرا کینہ پرور شخص یعنی وہ شخص اس کے دل میں دوسرے مسلمان بھائی کے لیے بغض ہو